کسی نے دروازے سے اشتہار اندر ڈال دیا، یا کسی رشتہ دار نے نمبر دے دیا، یا رات دو بجے جب نیند نہیں آ رہی تھی تو فون پر اشتہار سامنے آ گیا: "جادو تین دن میں ختم۔ محبت، کاروبار، گھریلو مسائل۔ سو فیصد گارنٹی۔"
آپ اتنے پریشان تھے کہ فون کر لیا۔ اور اب ایک ایسا شخص جسے آپ نے کبھی دیکھا بھی نہیں، آپ کو بتا رہا ہے کہ آپ کا مسئلہ بہت سنگین ہے، یہ کسی قریبی نے کیا ہے، اور اس کا توڑ آپ کی توقع سے کہیں مہنگا ہو گا۔
یہیں رک جائیے اور پہلے دس منٹ نکال کر یہ پڑھ لیجیے۔
رقیہ کروانا جائز ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کس سے
اس تحریر میں مدد مانگنے کی مخالفت نہیں کی گئی۔ صحابہ کرام رقیہ کرتے تھے، اور نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے ایک واضح شرط کے ساتھ اس کی اجازت دی:
رقیہ میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو۔ — صحیح مسلم ۲۲۰۰
نیچے لکھی ہر بات کی کسوٹی یہی ایک جملہ ہے۔ رقیہ قرآن اور مسنون دعاؤں کی تلاوت ہے، جس میں شفا صرف اللّٰه سے مانگی جاتی ہے۔ جیسے ہی کوئی اس سے ہٹ کر پوشیدہ الفاظ، جنات، قربانیوں یا غیب جاننے کے دعووں کی طرف جاتا ہے، وہ رقیہ کو پیچھے چھوڑ چکا ہوتا ہے، چاہے خود کو کچھ بھی کہے۔
اور یہاں داؤ پر صرف پیسہ نہیں لگا ہوتا:
جو شخص کسی نجومی کے پاس جائے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھے، اس کی چالیس راتوں کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ — صحیح مسلم ۲۲۳۰
جو شخص کسی کاہن کے پاس جائے اور اس کی بات کی تصدیق کرے، اس نے اس چیز کا انکار کیا جو محمد صلی اللّٰه علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔ — سنن ابی داؤد ۳۹۰۴
جعلی عامل صرف آپ کی جمع پونجی نہیں لیتا۔ وہ آپ کی نماز بھی چھین سکتا ہے۔
جعلی عامل یا پیر کی ۱۲ علامات
۱۔ مسئلہ "دیکھنے" کے لیے والدہ کا نام مانگتا ہے۔ قرآن و سنت میں کسی کے نام یا اس کی والدہ کے نام سے تشخیص کرنے کی کوئی بنیاد نہیں۔ یہ سب سے عام پہلا قدم ہے، اور یہ علم نہیں بلکہ حساب کتاب کا کھیل ہے۔
۲۔ بتاتا ہے کہ کس نے کیا ہے۔ کوئی انسان یہ نہیں جان سکتا۔ بھابھی، پڑوسی یا کسی پرانی سہیلی کا نام لینا خاندانوں کو توڑ دیتا ہے، اور یہ غیب کے علم کا دعویٰ ہے۔ اس سوال پر ہم نے تفصیل سے لکھا ہے۔
۳۔ نتیجے کی گارنٹی دیتا ہے یا دنوں کی تعداد بتاتا ہے۔ شفا اللّٰه کی طرف سے ہے۔ "بہتر گھنٹوں میں گارنٹی" بیچنے کا جملہ ہے، اور کوئی صاحبِ علم ایسا دعویٰ نہیں کرتا۔
۴۔ قیمت بڑھتی ہی جاتی ہے۔ پہلی کال مفت یا سستی ہوتی ہے۔ پھر مسئلہ "گہرا"، "دوہرا" یا "قبرستان والا" نکلتا ہے، اور ہر مرحلے کے لیے مزید پیسے چاہییں۔ آپ کے ڈرنے سے سچی تلاوت مہنگی نہیں ہو جاتی۔
۵۔ آپ کے بال، ناخن، کپڑا یا تصویر مانگتا ہے۔ رقیہ انسان پر یا پانی اور تیل پر پڑھا جاتا ہے۔ ذاتی چیزیں مانگنا جادو کرنے والوں کی نشانی ہے، توڑنے والوں کی نہیں۔
۶۔ جنات سے کام لیتا ہے، یا کہتا ہے "میرے موکل دیکھیں گے"۔ جنات سے کام لینا علاج کا کوئی آسان راستہ نہیں، بلکہ یہ اسی چیز کا طریقہ ہے جس سے آپ بچنا چاہتے ہیں۔ راقی ان سے پناہ مانگتا ہے، ان سے کام نہیں لیتا۔
۷۔ اللّٰه کے سوا کسی کے لیے قربانی مانگتا ہے، یا کہتا ہے کہ چوراہے پر کالی مرغی ذبح کریں، کچھ دفن کریں، یا آدھی رات کو بہتے پانی میں انڈا پھینکیں۔ ان رسموں کی سنت میں کوئی جگہ نہیں۔
۸۔ تعویذ میں ایسی چیزیں ہیں جو آپ پڑھ یا جانچ نہیں سکتے۔ نامعلوم حروف کے خانے، ایسے نام جو اللّٰه کے نام نہیں، علامتیں، یا کوئی بھی چیز جس کی وہ وضاحت سے انکار کرے۔ جائز تعویذ میں صرف اللّٰه کا کلام، اس کے اسمائے مبارکہ اور درود شریف ہوتا ہے، کچھ چھپا ہوا نہیں۔ ہم کیا لکھتے ہیں اور یہ طلسم کیوں نہیں، یہاں تفصیل ہے۔
۹۔ نماز چھوڑنے یا کوئی حرام کام کرنے کو کہتا ہے۔ "عمل کے اثر کے لیے" نماز چھوڑنا، الٹا پڑھنا، قرآن لے کر بیت الخلا جانا۔ جو چیز آپ کو اللّٰه سے دور کرے، وہ اللّٰه کی طرف سے علاج نہیں ہو سکتی۔
۱۰۔ ڈرا کر روکے رکھتا ہے۔ "اب چھوڑا تو دوگنی شدت سے واپس آئے گا۔" "اگلی باری آپ کے بچے کی ہے۔" ڈر ہی وہ ذریعہ ہے جس سے وہ آپ سے پیسے لیتا رہتا ہے۔ جادو واپس آ سکتا ہے یا نہیں، یہ ایک حقیقی سوال ہے اور اس کا سچا جواب موجود ہے۔
۱۱۔ کسی خاتون کے ساتھ اکیلے رہنا چاہتا ہے، کپڑے اتارنے کو کہتا ہے، یا "علاج" کے دوران چھوتا ہے۔ یہ کبھی بھی رقیہ کا حصہ نہیں۔ خاتون کا علاج محرم کی موجودگی میں، یا دور رہ کر ہو سکتا ہے، یا وہ خود اپنے اوپر پڑھ سکتی ہے۔
۱۲۔ ڈاکٹر کے پاس جانے سے روکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے علاج کروانے کی تلقین فرمائی۔ جو شخص چاہے کہ آپ صرف اسی پر بھروسہ کریں اور دوا پر کبھی نہیں، وہ آپ کی صحت کی نہیں، اپنی آمدنی کی حفاظت کر رہا ہے۔
سچا راقی کیسا ہوتا ہے
دوسری طرف کی علامات بھی اتنی ہی واضح ہیں:
- جو وہ پڑھتا ہے آپ سن اور سمجھ سکتے ہیں۔ وہ بلند آواز سے قرآن اور مسنون دعائیں پڑھتا ہے۔
- وہ حوالہ دیتا ہے۔ سورت اور آیت، کتاب اور حدیث نمبر، تاکہ آپ خود جانچ سکیں۔
- وہ آپ کو خود پڑھنا سکھاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ آپ کو اس کی ضرورت نہ رہے۔ آپ گھر پر خود اپنے اوپر رقیہ کر سکتے ہیں، کسی اور کی موجودگی کے بغیر۔
- جب بات طبی لگے تو صاف کہتا ہے کہ پہلے ڈاکٹر کو دکھائیں۔
- کبھی کسی کا نام نہیں لیتا، اور پوشیدہ باتیں جاننے کا دعویٰ نہیں کرتا۔
- فیس پہلے سے بتا دیتا ہے، ایک بار، صاف الفاظ میں۔ قرآن پڑھنے پر اجرت لینا بذاتِ خود جائز ہے؛ صحابہ کرام نے ایک بیمار پر سورۃ الفاتحہ پڑھ کر اجرت لی، اور نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: جن چیزوں پر تم اجرت لیتے ہو ان میں سب سے زیادہ حق دار اللّٰه کی کتاب ہے۔ — صحیح بخاری ۵۷۳۷۔ جو چیز قابلِ قبول نہیں وہ ایسی فیس ہے جو آپ کے خوف کے ساتھ بڑھتی جائے۔
- وہ آپ کی رازداری کا خیال رکھتا ہے۔ جو آپ بتاتے ہیں وہ آگے نہیں جاتا۔
اگر آپ پہلے ہی کسی کو پیسے دے چکے ہیں
آپ بےوقوف نہیں ہیں، اور آپ پہلے شخص بھی نہیں۔ یہ لوگ اپنے کام میں ماہر ہوتے ہیں، اور انسان کو اس کی سب سے کمزور حالت میں ڈھونڈتے ہیں۔
- رابطہ ختم کر دیجیے۔ کچھ "بند" کرنے کے لیے آپ پر کوئی آخری ادائیگی واجب نہیں۔ رابطہ ختم کرنے سے کچھ واپس نہیں آئے گا۔ اللّٰه تعالیٰ فرماتا ہے: جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔ — قرآن ۲۰:۶۹
- اس کی دی ہوئی ہر وہ چیز الگ کر دیجیے جو آپ پڑھ یا جانچ نہیں سکتے۔ ضائع کرنے سے پہلے کسی صاحبِ علم کو دکھا لیجیے۔
- اگر اس نے دھمکی دی یا جھوٹے وعدوں پر پیسے لیے تو پولیس کو اطلاع دیجیے۔ برطانیہ اور امریکہ میں جھوٹے دعووں سے پیسے لینا جرم ہے، اور "روحانی" کہہ دینے سے یہ بدل نہیں جاتا۔
- اگر آپ نے غیب کے بارے میں اس کی بات کا یقین کیا تھا تو توبہ کیجیے، اور صبح و شام کے اذکار کی طرف لوٹ آئیے۔ یہی وہ حفاظت ہے جس پر کوئی خرچ نہیں آتا۔
ہم کیسے کام کرتے ہیں
ہم آپ کے نام سے آپ کی حالت نہیں پڑھیں گے۔ ہم یہ نہیں بتائیں گے کہ کس نے کیا۔ ہم جادو اور طلسم نہیں کرتے، جنات سے کام نہیں لیتے، اور دنوں میں نتیجے کا وعدہ نہیں کرتے، کیونکہ نتیجہ اللّٰه کے ہاتھ میں ہے۔
ہم یہ کرتے ہیں کہ جو آپ اپنی حالت کے بارے میں لکھتے ہیں اسے پڑھتے ہیں، قرآن اور صحیح احادیث سے حوالے کے ساتھ جواب دیتے ہیں، آپ کو بتاتے ہیں کہ خود کیا پڑھنا ہے، اور جہاں بات ایسی لگے جو پہلے ڈاکٹر کو دکھانی چاہیے، وہاں صاف کہہ دیتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو یہاں اپنی صورتِ حال رازداری سے بتا سکتے ہیں۔
مآخذ
- صحیح مسلم ۲۲۰۰ — شرک سے پاک رقیہ جائز ہے
- صحیح مسلم ۲۲۳۰ — نجومی کے پاس جانا
- سنن ابی داؤد ۳۹۰۴ — کاہن کی تصدیق کرنا
- صحیح بخاری ۵۷۳۷ — اللّٰه کی کتاب پڑھنے پر اجرت
- قرآن ۲:۱۰۲ — جادو؛ قرآن ۲۰:۶۹ — جادوگر کامیاب نہیں ہوتا